Urdu
📖 قرآن کو صحیح پڑھیں (تجوید کے بنیادی اصول)
الحمد للہ! یہاں تجوید کے بنیادی اصول رومن اردو اور عربی مثالوں کے ساتھ دیے گئے ہیں۔ ہر قاعدے کو آسانی سے سمجھنے کے لیے خاص رنگوں (Color Coding) کا استعمال کیا گیا ہے۔
📝 فہرست (Contents)
1. تجوید کیا ہے؟ (تعریف اور اہمیت) 2. حروفِ تہجی (بنیادی عربی حروف) 3. مخارج کیا ہیں؟ (حروف کے نکلنے کی جگہ) 4. صفات کیا ہیں؟ (حروف کی خصوصیات) 5. تجوید کے 3 بنیادی قواعد1. تجوید کیا ہے؟ (تعریف اور اہمیت)
لغوی معنی: تجوید کا مطلب ہوتا ہے **'بہتر بنانا'** یا **'خوبصورت بنانا'**۔
اصطلاحی معنی: اسلام کی اصطلاح میں، تجوید وہ علم ہے جس کے ذریعے ہر **حرف (Letter)** کو اس کے **مخرج** (نکلنے کی صحیح جگہ) سے، اس کی **صفت** (خصوصیت) کے مطابق ادا کیا جاتا ہے۔
کیوں ضروری ہے: قرآن کو اسی طرح پڑھنا ضروری ہے جیسے اللہ نے نازل فرمایا، تاکہ **معنی** نہ بدلیں۔ تجوید سیکھنا ہر مسلمان پر **فرضِ کفایہ** اور قرآن کو صحیح پڑھنا **فرضِ عین** ہے۔
2. حروفِ تہجی (بنیادی عربی حروف)
عربی میں کل 29 حروف ہوتے ہیں۔ انہیں اَلِف (ا) سے لے کر یَاء (ي) تک پڑھا جاتا ہے۔ ان حروف کو صحیح مخرج سے نکالنا تجوید کی **پہلی بنیاد** ہے۔
3. مخارج کیا ہیں؟ (حروف کے نکلنے کی جگہ)
معنی: مخرج کا مطلب ہوتا ہے **'نکلنے کی جگہ'**۔
اصطلاحی معنی: اصطلاح میں، **حروف کی آواز کے نکلنے کی صحیح جگہ** کو **مخرج** کہتے ہیں۔ (کل 17 مخارج، 5 اہم حصوں میں)۔
3.1. حلق (گلا) سے نکلنے والے حروف
| حلق کا حصہ | حروف (عربی) | وضاحت |
|---|---|---|
| اوّلِ حلق (سینہ کی طرف) | ء، هـ | ہمزہ، ہا |
| وسطِ حلق (بیچ کا حصہ) | ع، ح | عین، حا |
| آخرِ حلق (منہ کی طرف) | غ، خ | غین، خا |
3.2. زبان (Tongue) سے نکلنے والے حروف
زبان سے 18 حروف نکلتے ہیں۔ زبان مخارج کا سب سے بڑا مرکز ہے۔
| زبان کا حصہ | حروف (عربی) | وضاحت |
|---|---|---|
| آخرِ زبان (جڑ) | ق | قاف (موٹا اور مضبوط) |
| آخرِ زبان (اس سے آگے) | ك | کاف (پتلا) |
| وسطِ زبان (بیچ) | ج، ش، ي | جیم، شین، یا **(یائے غیر مدّہ)** |
| زبان کی سائیڈ (کنارہ) | ض | ضاد (سب سے مشکل مخرج) |
| ... | ... | ... |
3.3. ہونٹ (Lips) اور جوف (خالی جگہ) سے نکلنے والے حروف
جوف (خالی جگہ): منہ اور حلق کے اندر کی خالی جگہ سے **3 حروفِ مدّہ** (ا، و، ى) نکلتے ہیں۔
4. صفات کیا ہیں؟ (حروف کی خصوصیات)
معنی: صفت کا مطلب ہوتا ہے **'خاصیت'** یا **'پہچان'**۔
اصطلاحی معنی: حروف کو مخرج سے ادا کرتے وقت انکی **آواز کے انداز اور خصوصیات** کو صفت کہتے ہیں۔
غنہ: یاد رکھیں! غنہ کوئی حرف نہیں، بلکہ یہ ایک صفت (خصوصیت) ہے جو صرف **نون (ن)** اور **میم (م)** میں پائی جاتی ہے، اور اس کی آواز ناک (خیشوم) سے نکلتی ہے۔
5. تجوید کے 3 بنیادی قواعد
5.1. نون ساکن (نْ) اور تنوین (اً ٍ ٌ) کے قواعد
نون ساکن (نْ) اور **تنوین** (اً ٍ ٌ) کے بعد آنے والے حروف کے حساب سے 4 قواعد ہوتے ہیں:
(ا) اظہار (ظاہر کرنا)
شرط: نون ساکن/تنوین کے بعد حلق کے 6 حروف (ء، هـ، ع، ح، غ، خ) میں سے کوئی بھی آئے۔
(ب) ادغام (ملا دینا)
شرط: نون ساکن/تنوین کے بعد 'یرملون' (ي، ر، م، ل، و، ن) میں سے کوئی حرف آئے۔
(ج) اقلاب (بدل دینا)
شرط: نون ساکن/تنوین کے بعد صرف ایک حرف **با (ب)** آئے۔ (نون کی آواز میم (م) میں بدل جاتی ہے)۔
(د) اخفاء (چھپا کر پڑھنا)
شرط: جب نون ساکن/تنوین کے بعد باقی 15 حروف میں سے کوئی آئے۔
5.2. میم ساکن (مْ) کے قواعد
میم ساکن (مْ) کے 3 قواعد ہوتے ہیں (اخفاء شفوی، ادغام شفوی، اظہار شفوی)۔
5.3. قلقلہ (Echo) کے حروف
حروف: پانچ حروف ہیں: **ق، ط، ب، ج، د** (مجموعہ: **قُطْبُ جَدّ**)
قاعدہ: جب ان پانچ حروف پر **جزم/سکون** ہو، تو انکی آواز میں ہلکی سی **گونج (Echo)** پیدا ہوتی ہے۔
📞 قرآن سیکھنے کے لیے رابطہ کریں
اگر آپ **براہ راست ون-ٹو-ون** کلاس کے ذریعے تجوید کو اور گہرائی سے سیکھنا چاہتے ہیں، تو ہماری آن لائن پرسنلائزڈ کلاسز دیکھیں:
➡️ آن لائن پرسنلائزڈ تجوید کلاس کے لیے یہاں کلک کریں